سابق سعودی سفیر نے پاکستان کے مستحکم ہونے کے بارے میں آرٹیکل لکھ دیا

سابق سعودی سفیر ڈاکٹر علی العواض العسیری نے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا دور اقتدار چیلنجز سے بھرپور رہا ،انہوں نے لکھا کہ اس دوران خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات اور دوطرفہ دوستانہ تعلقات بھی مضبوط ہوئے، گلف کوپریشن کونسل نے اظہار کیا ہے وزیر اعظم کی بہترین پالیسیوں اور اسٹریٹجی کے باعث سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ دو طرفہ سرمایہ کاری اور تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق سفیرکا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی، دفاعی اور ثقافتی تعلقات کو ترجیح دی ہے، یہ دو طرفہ تعاون اور تعلقات مذہب کا ایک ہونا اور باہمی فائدہ مند اقتصادی ضروریات، علاقائی استحکام اور عالمی امن میں مشترکہ اسٹریٹجک مفادات پر استوار ہیں۔انہوں نے مزید لکھا خلیجی ممالک نے ہمیشہ پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہوئے توانائی اور ترسیلات زر میں بہتری کے لیے کام کیا، خلیجی ممالک پاکستانی تارکین وطن کے لیے دوسرا گھر بھی سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان نے بھی خلیج ممالک کے لیے اپنے تعاون کو بڑھاتے ہوئے ترقیاتی شعبے میں سرمایہ کاری، ہنرمند افرادی قوت اور قابل تجارت اشیاء کی فراہمی یقینی بنائی ہے۔سابق سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ سویلین اور فوجی رہنماؤں کو بھی اس بات کا علم ہے کہ بحران زدہ معیشت کو پائیدار ترقی کی جانب گامزن کرنے میں خلیجی ممالک کی سرمایہ کاری اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا قیام ایک بہترین اقدام ہے۔سرمایہ کاری سہولت کونسل کو خلیجی ممالک سے زراعت، معدنیات اور کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ اس خصوصی فنڈ کے قیام کے بعد سرمایہ کاری کرنا اب زیادہ آسان ہو سکے گا۔انہوں نے اپنے آرٹیکل میں کہا کہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ شہباز شریف کی حکومت نے پاکستان میں معاشی بحالی کے امکانات کو بڑھانے کے لیے اچھا کام کیا ہے، خاص طور پرخلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو نئے دور میں داخل کرنے کا سہرا بھی انہی کو جاتا ہے۔