200

خواجہ آصف:جوڑ تور سے بنی حکومت میں شروع سے ہی خرابیاں تھیں، صوبائی حکومت ہمیں مل سکتی تھی، مجھے بھی وزیراعظم بننے کی گئی

مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ جب میں قید میں تھا تو مجھے وزیراعظم بننے کی پیشکش کی گئی جو میں نے مسترد کر دی تھی۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جو حکومت توڑ جوڑ کر بنائی گئی،شروع میں ہی اس میں خرابیاں پیدا ہوگئیں، 2019 میں پنجاب حکومت ہمارے پاس آ سکتی تھی۔
ذرائع کے مطابق خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ  یہ تجویز مالکان کی طرف سے آئی تھی یا نہیں؟ یہ مجھے نہیں معلوم، تجویز میں کہا گیا  تھا کہ بطور وزیر اعظم آپ کا اور شاہد خاقان عباسی کا نام ہے ، مگر آپ کی قیادت کو ابھی انتظار کرنا پڑے گا،جس پر میں نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ اگر شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بن جائیں تو مجھے اعتراض نہیں ہوگا, آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایکسٹینشن پر ہم نے بلینک چیک دیا تھا،ان  کی ایکسٹینشن پر ہماری کوئی سودے بازی نہ تھی اور نہ کچھ مانگا تھا۔جنرل  باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع لندن میں سینیئر قیادت کا اجتماعی فیصلہ تھا ، نواز شریف کی واضح ہدایت تھی کہ ووٹ ضرور دیا جائے ۔

کیٹاگری میں : News

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں