266

کانسٹیبل سمیر ا صدیق جب اپنے والد کا چالان کر کے گھر پہنچی تو والدہ نے کیا سلوک کیا؟

چونیاں میں پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس میں تعینات کانسٹیبل سمیرا صدیق  نے دورانِ ڈیوٹی ہیلمٹ نہ پہننے پر اپنے والد کا چالان کر دیا۔سمیرا نے بتایا کہ جس روز والد صاحب کا چالان کیا اور ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد شام کو وہ گھر واپس آئیں تو ان کی والدہ نے ناراضگی کا اظہار کیا لیکن والد صاحب نے ان کا ماتھا چوما۔ ’مگر میں نے اور ابو نے انھیں سمجھایا تو بعد میں میرے اس عمل پر اماں جان بھی خوش ہو گئیں
ذرائع کے مطابق سمیرا صدیق کاکہناتھاکہ جب پولیس میں بھرتی ہوئی تو یہی عزم تھا کہ بے شک میں کانسٹیبل ہوں لیکن کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرنی اور سب سے انصاف کرنا ہے ۔ مگر یہ وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میرے اس انصاف کا شکار میرے ہاتھوں اپنے والد صاحب ہی ہو جائیں گے، والد کھیتی باڑی کرتے ہیں۔اپنے والد کا چالان کرنے سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پنجاب میں پولیس کی طرف سے صوبے کے تمام اضلاع میں موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ کی پابندی کے حوالے سے خصوصی مہم ان دنوں چل رہی ہے اور ہیلمٹ نہ پہننے والوں کے چالان بڑی تعداد میں کیے جا رہے ہیں، ہم تین اہلکار معمول کے مطابق قصور روڈ پر ناکہ لگائے کھڑے تھے اور ہیلمٹ نہ پہننے والوں کو روک کر ان کے چالان کر رہے تھے، ناکے پر ایک موٹر سائیکل روکی گئی جس پر اتفاق سے میرے والد صاحب ہی سوار تھے۔‘سمیرا نے کہا کہ ’میں نے انہیں سلام کیا اور کہا کہ آپ کو ہیلمٹ پہننا چاہیے تھا، یہ آپ کی زندگی کی حفاظت کےلیے ضروری ہے۔ میں نے اپنی ساتھی اہلکار کو بتایا کہ یہ میرے والد صاحب ہیں تو اس نے بھی انھیں سلام کیا لیکن جب میں نے موقع پر موجود اے ایس آئی کو کہا کہ اُن کا بھی چالان کریں کیونکہ قانون سب کےلیے برابر ہوتا ہے تو دونوں ساتھی اہلکار حیران رہ گئے۔ پھر میرے دوبارہ کہنے پر اے ایس آئی نے دو سو روپے کی چالان رسید بنا کر میرے والد صاحب کے حوالے کر دی ۔
کانسٹیبل سمیرا صدیق نے کہا کہ جب ہم سڑک پر ناکہ لگا کر کھڑے ہوتے ہیں تو اس وقت پولیس کی وردی کی عزت کا سوال ہوتا ہے اور ہماری ذاتی شخصیت پیچھے رہ جاتی ہے، علاقے کے لوگ آپ سے توقع کرتے ہیں کہ آپ ان سے نرمی برتیں گے۔ ’مگر اب سب لوگوں کو پتہ چل گیا ہے کہ اس لڑکی کے ہوتے ہوئے کوئی غلط کام نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس نے اپنے باپ کا چالان کر دیا ہے، یہ کسی کو نہیں معاف کرنے والی۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں