145

تشدد شکار بچی کی والدہ کا ہوشربا انکشاف :میری بیٹی کے منہ میں تیزاب ڈالا گیا

15 سالہ متاثرہ رضوانہ کی والدہ نے کہا ہے کہ میری بیٹی کے منہ میں تیزاب ڈالا گیا تھا تاکہ وہ بول نہ سکے۔
گھریلو تشدد کا شکار بننے والی 15 سالہ رضوانہ جنرل ہسپتال کی آئی سی یو میں زیرعلاج ہے۔ رضوانہ کی ماں کا کہنا تھا کہ میری بیٹی کی آنکھوں میں چمچے اور راڈ مارے گئے، جج کی فیملی ہمارے اوپر پریشر ڈال رہی ہے، ہمیں پیسوں کی آفر دے رہے ہیں لیکن ہم پیسے نہیں لیں گے۔متاثرہ بچی کی ماں کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں صرف انصاف چاہیے، ہم انصاف کی خاطر لڑٰیں گے، چاہے 10 سال تک کیوں نہ لڑنا پڑے، جج کی بیوی نے بیٹی پر بہیمانہ تشدد کیا ہے،وہ چھ ماہ تک مسلسل تشدد کرتے رہے ہیں۔وفاقی وزیراطلاعات اور مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے بھی گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رضوانہ کو انصاف دینے کے بجائے ملزمان کو ضمانتیں ملنا افسوسناک ہے،انہوں نے کہا کہ مظلوم بیٹی کو بلا تاخیر انصاف دیا جائے اور ملزمان کو گرفتار کیا جائے

کیٹاگری میں : Social

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں